عمر اسلم اعوان کو مسلم لیگ ن نے ٹکٹ سے کیوں انکار کیا؟ اہم انکشافات

خوشاب نیوز ڈاٹ کام)وادی سون کی ممتاز سماجی شخصیت ملک منصب خان اعوان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی اعلیٰ
قیادت نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 69 خوشاب کے ضمنی انتخاب میں عمر اسلم اعوان کو پارٹی ٹکٹ دینے سے معذرت کر کے دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے۔پارٹی قیادت کو تمام ذرائع سے یہ یقین ہو گیا ہے کہ اس حلقہ کے ضمنی انتخاب میں محترمہ سمیرا ملک کے نامزد کردہ اُمیدوار ملک عزیر محمد خان ہی باآسانی انتخاب جیت سکتے ہیں۔ وہ اخبار نویسوں سے بات چیت کررہے تھے۔ ملک منصب خان اعوان نے کہا کہ عمر اسلم اعوان کو پارٹیاں اور گروپ بدلنے کی پرانی عادت ہے لیکن اب حلقہ کے عوام اُن کی اہلیت کو پہچان چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے 1997ء میں ملک نعیم خان کی درخواست پر عمر اسلم اعوان کو پارٹی ٹکٹ جاری کیا اور ان کے ایم این اے
منتخب ہونے کے بعد انھیں مواصلات کا وفاقی پارلیمانی سیکرٹری بھی بنایا۔ اُس وقت کے وفاقی وزیر محمد اعظم خان ہوتی نے نھیں بے پناہ مراعات دیں لیکن 1999ء میں جب مسلم لیگ ن پر آزمائش کا وقت آیا تو عمر اسلم اعوان نے مسلم لیگ ن کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر مسلم لیگ ق میں شمولیت اختیار کر لی۔ملک منصب خان اعوان نے کہا کہ حلقہ این اے 69کے عوام کی یادداشت کمزور نہیں ہے اُنھیں یاد ہے کہ 1985ء کے غیر جماعتی انتخاب میں ملک نعیم خان قومی اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے پھر انھوں نے محمد خان جونیجو کی وزارت عظمیٰ کے دور میں وفاقی وزارت حاصل کر لی لیکن جیسے ہی جنرل ضیاء الحق نے جونیجو حکومت کو برطرف کیا تو ملک نعیم خان فوجی ڈکٹیٹر ضیاء الحق کے ساتھ مل گئے اور صوبائی وزیر آبپاشی کا منصب سنبھال لیا۔انھوں نے کہا کہ علاقہ کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ جب اُنھیں وفاقی وزارت کا عہدہ دینے والے مرحوم محمد خان جونیجو خوشاب آئے تو ملک نعیم اور ان کے ساتھیوں نے ان پر ٹماٹر ‘ انڈے اور ڈنڈے برسائے اور اس حادثہ میں وہ بمشکل جان بچا کر اسلام آباد پہنچے۔ 1988ء کے انتخاب میں ملک نعیم خان نے صوبائی وزیر آبپاشی کی حیثیت سے سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا لیکن جب 1990ء میں اسمبلی ٹوٹی تو ملک نعیم ایک بار پھر قلابازی کھاتے ہوئے وزیراعظم غلام مصطفی جتوئی کے ساتھ مل گئے اور ان سے وفاقی وزیر مواصلات کا قلمدان حاصل کر لیا۔ ملک منصب خان نے کہا کہ 2002ء سے 2008ء تک عمر اسلم اعوان‘ چوہدری پرویز الٰہی کے قریبی ساتھی رہے اور اُن کی حکومت سے بے پناہ مراعات حاصل کیں۔ انھوں نے ضلع خوشاب میں اپنے سرپرست ملک اﷲ بخش سنگھا کو مسلم لیگ ق کا ضلعی صدر بنوایا لیکن جب مسلم لیگ ق کے اقتدار کا سورج غروب ہوا تو عمر اسلم اعوان نے 2008ء میں آزاد حیثیت سے انتخاب میں حصہ لیا۔ اور اس انتخاب میں انھوں نے محترمہ سمیرا ملک سے شکست کھائی۔ 2013ء میں تحریک انصاف کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے وہ تحریک انصاف میں شامل ہو گئے اور تحریک انصاف صوبہ پنجاب کے نائب صدر کا عہدہ حاصل کر لیا۔ عمران خان کی خصوصی ہدایت پر اُنھوں نے حامد خان ایڈووکیٹ کو سپریم کورٹ میں اپنا وکیل بنایا جس کے نتیجہ میں محترمہ سمیرا ملک نااہل ہو گئیں۔ انھوں نے کہا کہ اب پھر عمر اسلم ایک دفعہ مفاد پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلم لیگ ن میں شامل ہونے کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہا ہے لیکن اس مرتبہ اُسے قلابازی کھانے میں کامیابی نہیں ملے گی کیونکہ مسلم لیگ ن کی قیادت اُن کے ماضی سے بخوبی آگاہ ہے

Comments system

Disqus Shortname