مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کہیں۔ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا۔ انسان کی معاشی زندنگی تب شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز خود کرتا ہے۔ اسکی دوسری بات کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر تعلیم سے روپیا کمایا جا سکتا تو آج دنیا کا ہر پروفیسر ارب پتی ہوتا۔ اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں۔ ان میںسے کوئی بھی پروفیسر ،ماہر تعلیم شا مل نہیں۔ دنیا میں ہمیشا درمیانے پڑھے لکھے
ہیں اور یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور میں ہی کاروبار شروع کر دیتے ہیں۔ کامیابی انکو کالج یا یونیورسٹی کی بجائے کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے۔ میں زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا۔ میری کمپنی میں اسوقت اعلی تعلیم یا فتہ 30 ہزار مرد اور خواتین کام کرتےہیں یہ تعلیم یا فتہ لوگ مجھ سے وژن،عقل اور دماغ میں بہت بہتر ہیں لیکن ان میں نوکری چھورنے کا حوصلہ نہیں۔ انہیں اپنے اور اپنی صلا حیتوں پر اعتبارنہیں۔ اگرکوئی شخص انگوارکے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ اپنےلیے بھی کر سکتا ہے۔ بس اس کے لیے زرا سا
حوصلہ چاہیے۔ دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا نہیں۔ دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں لیکن کام کرنے والوں کے لیے ساری دنیا کھلی پڑی ہے۔ انگوارکی باتیں سن کے میں نے سوچا کاش کاش کاش میں انگوار کی باتیں پاکستان کے ان تمام پڑھے لکھے بےروزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بےروزگاری کا رونا روتے ہیں۔ کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں کے اگر فارم ہاوس کا مزدورمسلسل محنت کر کے انگوار بن سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں
مجھے انگوار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔
اس انٹرویو میں اس نے دو دلچسپ باتیں کہیں۔
دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا۔
انسان کی معاشی زندنگی تب شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز خود کرتا ہے۔
اسکی دوسری بات
کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں۔
اگر تعلیم سے روپیا کمایا جا سکتا تو آج دنیا کا ہر پروفیسر ارب پتی ہوتا۔
اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں۔
ان میںسے کوئی بھی پروفیسر ،ماہر تعلیم شا مل نہیں۔
دنیا میں ہمیشا درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی۔
یہ لوگ وقت کی قدروقیمت سمجھتے ہیں اور یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور میں ہی کاروبار شروع کر دیتے ہیں۔
کامیابی انکو کالج یا یونیورسٹی کی بجائے کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے۔
میں زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا۔
میری کمپنی میں اسوقت اعلی تعلیم یا فتہ 30 ہزار مرد اور خواتین کام کرتےہیں
یہ تعلیم یا فتہ لوگ مجھ سے وژن،عقل اور دماغ میں بہت بہتر ہیں لیکن ان میں نوکری چھورنے کا حوصلہ نہیں۔
انہیں اپنے اور اپنی صلا حیتوں پر اعتبارنہیں۔
اگرکوئی شخص انگوارکے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ اپنےلیے بھی کر سکتا ہے۔
بس اس کے لیے زرا سا حوصلہ چاہیے۔
دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا نہیں۔
دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں لیکن کام کرنے والوں کے لیے ساری دنیا کھلی پڑی ہے۔
انگوارکی باتیں سن کے میں نے سوچا
کاش کاش کاش
میں انگوار کی باتیں پاکستان کے ان تمام پڑھے لکھے بےروزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بےروزگاری کا رونا روتے ہیں۔
کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں کے اگر فارم ہاوس کا مزدورمسلسل محنت کر کے انگوار بن سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں