
خوشاب نیوز ڈاٹ کام)جھنگ کے علاقہ شاہ جیونہ سے تعلق رکھنے والی خاتون سیاست دان سیدہ عابدہ حسین کا نام ملکی سیاست میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز فروری 1972 میں کیا جب اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں خواتین کی مخصوص نشست پر پنجاب اسمبلی کا رکن نامزد کیا تھا۔وہ 1991 سے 1993 تک امریکہ میں پاکستان کی سفیر رہیں۔ بعد ازاں انہوں نے مسلم لیگ ن کی حکومت میں بطور وزیر برائے تعیلم، سائنس و ٹیکنالوجی، وزیر برائے خوراک و زراعت اور وزیر برائے بہبود آبادی و شہری امور کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔انہیں ضلع کونسل جھنگ کی پہلی خاتون چیئرپرسن بننے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔گزشتہ سال انہوں نے پاور فیلیئر کے نام سے انگریزی میں اپنی خود نوشت لکھی تھی۔اس کتاب کا اُردو ترجمہ ’اور بجلی کٹ گئی‘ کے نام سے حال ہی میں شائع ہوا ہے درج ذیل اقتباسقارئین کی دلچسپی کے پیش نظر انکی اس خود نوشت سے لیا گیا ہے
دسمبر1988میں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی دعوت پر بھارت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی غیر ایٹمی جارحیت کا معاہدہ کرنے پاکستان کے دورے پر آئے یہ نو منتخب حکومت کی فتح تھی ۔ ایوان صدر میں ہونے اولی ایک ضیافت کا دعوت نامہ مجھے بھی بھجواگیا أراجیو دراز قد ،صاف رنگت والااور نہایت دلکش تھا۔بے نظیر آئیس پنک اور خوبصورت لباس میں بہت اچھی لگ رہی تھی ۔صدر غلام اسحا ق خان دونووزرائے اعظم کے درمیان میں بیتھے تھے جو آپس میں بڑے جاندار ناداز میں بات چیت کررہے تھے ۔جبکہ صدر چپ چاپ ہی نظر آتے تھے ۔میں مرکزی میز کے ساتھ والی میزوں کی پہلی قطار میں درمیانی میز پر بیٹھی تھی ۔میں صدر اور دونوں وزرائے اعظم کے نظروں کی بالکل سیدھ میں تھی ۔خان عبدالولی خان مزرکزی میز پر تھے اور اسی طرح نواب اکبر بگٹی ،غلام مصطفی جتوئی ،نوابزادہ نصر اللہ خان (اپنی مخصوص ٹوپی میں ) ،فاروق احمد خان لغاری ، مو لانا فضل الرحمن ( کندھے پر اپنے مخصوص رومال کے ساتھ)عوامی تاثر دینے کی خاطر جہانگیر بدر اور غلام حیدر وائیں کو بھی اسی ٹیبل پر بٹھا گیا تھا۔بحثیت پاکستانی میں نے فخر محسوس کیا کہ ہمارے قائدین نے ہمای ثقافتی رنگا رنگی کو منعکس کیا تھا اور جنہوریت کے حوالے سے بھارتیوں کے ہم پلہ نظر آئے تھے ۔راجیو گاندھی کی جوان اور پیاری بیوی سونیا گاندھی ریشمی ساڑھی پہن کر اپنی اطالوی شناخت کو غیر نمایاں کررہی تھی۔
جب ڈنر اختتام کے قریب پہنچا تو تو رسمی تقاریر ہو چکی تھیں تب اعلان کیا گیا کہ بھارتی وزیر اعظم کی درخواست پر ہماری مشہور اور محترم گلوکارہ ملکہ ترنم نور جہا ں اپنے نغمات بکھیریں گی۔نور جہاں نہایت زرق برق ساڑھی میں آئیں اور گردن پر ایک سفید سکارف باندھ رکھا تھا انہوں نے سامعین کو بتایا کہ اگرچہ انکی طبعیت اچھی نہیں تھی مگر وہ دنیا کے دو حسین ترین وزرائے عظم کی درخواست مسترد نہ کرسکیں انکی کھنکھتی ہوئی آواز چہار سو پھیل گئی ۔انہوں فیض احمد فیض اور فراز کی غزلیں پیش کیں ۔
درمیانی وقفوں میں میرے ساتھ بیٹھی ہوئی کلثوم آپا نے پو چھا کہ کیا یہ بات درست ہے کہ نورجہاں اپنے بیٹے اکبر رضوی کا رشتہ لیکر ہمارے گھر آئی تھیں جس پر میرے والد بہت محظوظ ہوئے اوران سے کہا کہ جواب لینے سے قبل انہیں کچھ گاکر سنائیں ۔ اسپر ملکہ ترنم نے جواب دیا کہ اگر رشتہ قبول کرلیا گیا تووہ جب کہیں گے گائیں گیاور اگر رشتہ قبول نہیں تو وہ اپنی سانس ضائع نہیں کرینگی۔میں نے اس کہانی کی تصدیق کی اور یہ بھی بتایا کہ میڈم نور جہاں نے زور دیا تھا کہ اکبر کے والد شوکت حسین رضوی ایک سید اور انہی کی طرح ایک سچے شیعہ تھے انہیں امید تھی کہ میرے والد رضامند ہو جائینگے۔