اگرچہ جنگلات دنیا سے ناپید ہوتے جا رہے ہیں لیکن بڑے اور گھنے جنگلات موجود ہیں جہاں پر سورج کی کرنیں کبھی زمین تک نہیں پہنچیں، ان میں سرِفہرست ایمزون ہے۔
ایمزون برِاعظم جنوبی امریکا میں واقع دنیا کا سب سے بڑا جنگل ہے۔ اس کا رقبہ ۵۵ لاکھ مربع کلومیٹر ہے جو کہ پورے برِاعظم کا 20 فیصد رقبہ بنتا ہے۔ پاکستان کا رقبہ ۷ لاکھ ۹۴ ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ پاکستان جیسے سات ممالک اس جنگل میں سما جائیں۔ براعظم کے نو ممالک کا رقبہ اس جنگل میں شامل ہے جن میں سب سے بڑا حصہ برازیل کا ہے جو کہ ۶۰ فیصد ہے۔ لاکھوں میل پر پھیلا ہوا یہ جنگل مسحور کن قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ دنیا میں اب تک دریافت ہونے والی جانوروں، حشرات اور پرندوں کی آدھی اقسام کا تعلق ایمزون سے ہے۔ اسی طرح پھلوں اور نباتات کی لاتعداد اقسام صرف ایمزون میں پائی جاتی ہیں۔ دنیا بھر سے جنگلی حیات اور نباتات سے دلچسپی رکھنے والے ماہرین اور سیاح ہر سال لاکھوں
کی تعداد میں ایمزون کا رُخ کرتے ہیں۔
ہالی ووڈ کی سینکڑوں فلمیں ایمزون میں فلمائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ جنگلی جانوروں اور جنگلی حیات پر ان گنت ڈاکو منٹریز ہر سال بنائی جاتی ہیں۔ اس جنگل کے بیچوں بیچ دریائے ایمزون بہتا ہے جو بہاؤ اور حجم کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا اور لمبائی کے لحاظ سے دریائے نیل کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا دریا ہے۔ ۱۱۰۰ دوسرے معاون دریا اس میں سے نکلتے ہیں جن میں سے سترہ کی لمبائی ایک ہزار میل سے زائد ہے۔ بارشوں کے موسم میں دریائے ایمزون ۳۰۰ کلومیٹر تک پھیل جاتا ہے اور ہر روز ۵۰۰ ارب کیوبک فٹ پانی بحیرہ اٹلانٹک میں پھینکتا ہے۔ بحیرہ اٹلانٹک میں ۱۲۵ کلومیٹر تک ایمزون کا تازہ اور میٹھا پانی ملتا ہے پھر کہیں جا کر سمندر کا نمکین پانی شروع ہوتا ہے۔ پورے امریکا کی پانی کی ضروریات اکیلا دریائے ایمزون پوری کر سکتا ہے۔
خطہ ایمزون کی تاریخ تقریباً ۱۵ کروڑ سال پُرانی ہے۔ شروع میں برِاعظم افریقا اور جنوبی امریکا ایک ہی براعظم کا حصہ تھے، پھر کسی بہت بڑے زلزلے کے سبب براعظم کا ایک بڑا حصہ الگ ہو گیا اور بیچ میں سمندر آ گیا۔ یہ حصہ آج برِاعظم افریقا کہلاتا ہے۔ ارضی ماہرین نے وہ تمام علامات ڈھونڈ نکالی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ براعظم افریقا دراصل براعظم امریکا کا ہی حصہ تھا۔ ڈسکوری اور جیوگرافکل چینل پر ایسی ڈاکومینٹریز موجود ہیں جس میں یہ سارا عمل دکھایا گیا ہے۔ خطہ ایمزون میں انسانی آباد کاری کی تاریخ بھی صدیوں پرانی ہے لیکن حالیہ دہائیوں میں انسانی آبادی میں تیز رفتار اضافے کی وجہ سے یہ شرح کافی بڑھ چکی ہے۔ اس دورِ جدید میں جبکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی بے پناہ ترقی کی بدولت انسان ایک نہایت پُرآسائش زندگی گُزار رہا ہے ایمزون کے جنگلوں میں آج بھی سینکڑوں قبائل صدیوں پرانے رسم و رواج کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں جن کا جدید دنیا سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔
مشینی زراعت کے شروع ہونے سے دنیا کے اس سب سے بڑے اور متنوع جنگل کا رقبہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ ۱۹۷۰ سے لے کر اب تک اس کا رقبہ ایک کروڑ چالیس لاکھ ایکڑ کم ہو چکا ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ بھی جنگلات کی تباہی کی ایک بڑی اور اہم وجہ ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے خطہ میں بارشیں کم ہوتی ہیں جس کی وجہ سے جنگل میں سوکھا پڑ جاتا ہے اور جنگل میں آگ لگنا شروع ہو جاتی ہے۔ برازیلین حکومت نے دنیا کے سب سے بڑے محفوظ علاقوں کا نیٹ ورک بنایا ہے جن کی سیٹیلائٹ کے ذریعے نگرانی کر کے وہاں پر قانون کی عملداری کو یقینی بنایا گیا ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کے قوانین بنائے گئے ہیں تاکہ جنگل اور جنگلی حیات کا تحفظ اور قدرتی حسن برقرار رہ سکے۔
برِاعظم جنوبی امریکا کی معیشت کا زیادہ دارومدار ایمزون کے جنگلات پر ہے۔ آج خطہ ایمزون پورے براعظم کے جی ڈی پی کا ۷۰ فیصد حصہ مہیا کرتا ہے۔ ایمزون سے بہت سی اشیاء دنیا بھر میں برآمد کی جاتی ہیں جن میں سرِفہرست مویشیوں کا گوشت اور کھالیں ہیں۔ اس کے علاوہ لکڑی، سویا، تیل و گیس اور معدنیات و نمکیات اس لمبی فہرست میں شامل چند اشیاء ہیں جو دنیا بھر میں درآمد کی جاتی ہیں جس سے خطے کی معیشت اور فی کس آمدنی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔